محبت اور بڑھتی ہے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanمحبت میں آزمانے سے محبت اور بڑھتی ہے
چوٹ کھا کر مُسکرانے سے محبت اور بڑھتی ہے
کیسے بتایئں اُسے وہ جو ہم سے آشنا ہی نہیں
دیکھ کر چہرہ چھپانے سے محبت اور بڑھتی ہے
جانتے ہوےَ بھی اجنبی کی طرح پیش آتے ہیں
شاید جانتے نہیں حقیقت چھپانے سے محبت اور بڑھتی ہے
کہیں نا اب چین پاےَ بے قراری بڑھتی جاےَ
کسی کے یوں بے قرار رہنے سے محبت اور بڑھتی ہے
دیوانہ اپنا بنا کر اب مجھ سے انجان ہے
انتظار دے کر جلانے سے محبت اور بڑھتی ہے
کاش جان جائیں وہ اس حقیقت کو
بے وجہ کسی کو ستانے سے محبت اور بڑھتی ہے
خیالوں میں کھوےَ رہتے ہیں شاید اب بھی نا آشنا ہیں
خوابوں میں کسی کے آنے سے محبت اور بڑھتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






