محبت اگر بچھڑ جایئں تو پھر
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaمحبت اگر بچھڑ جایئں تو پھر
جینے کے لیے کوئی
سامان بھی نہیں ہوتاہے
دل میں درد ہوتا ہے
جو آنکھوں سے بیان ہوتا ہے
چہرے کو پھر زرد پتاء
بھی کہہ دیتے ہیں لوگ اکثر
جو گلاب سے بھی زیادہ
کبھی لال ہوتا ہے
پھر ُاس شخص کا
اس دنیا سے کوئی
واسطہ ہی نہیں رہتا
صرف خاموشی میں
سسکیوں کا دھمال ہوتا ہے
انسان تو جیسے رب سے مل آتا ہے
جب بتانے والا اپنا کوئی
حال نہیں ہوتا ہے
پھر دعایئں التجایئں
تو کوئی معانی ہی نہیں رکھتی
سچے عشق کے لیے تو
معجزوں کا احتتام ہوتا ہے
پھر کہاں ممکن
نا ممکن سوچ میں رہتا ہے
جب بندے سے راضی
ُاس کا خدا ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






