محبت ایک دعا ہے
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaمحبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
خطا کوئی جو ہو جائے
کبھی لہجہ بدل جائے
ضروری بات رہ جائے
میرا چہرا بدل جائے
اگر پہچان نہ پاؤں
تمہیں گر جان نہ پاؤں
دعا دینا
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
ستارے توڑ نہ پاؤں
تمہارے کام نہ آؤں
توازن جو نہ رہ پائے
نظربندی نظر آئے
اشارہ ہو شرارت کا
کوئی دھوکا بصارت کا
دعا دینا
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
میں تم سے کہہ نہیں پایا
تمہارے نام کا سایہ
میرے ہمراہ رہتا ہے
مجھے ہر پل یہ کہتا ہے
کوئی مشکل جو در آئے
تصور میرا دھندلائے
دعا دینا
محبت ایک دعا ہے
تم مجھے بس یہ دعا دینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






