محبت بھی کی تو ڈر ڈر کے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمحبت بھی کی تو ڈر ڈر کے
زندگی گزار دی مر مر کے
اب کے مجھے کرنی ہے نفرت
اُکتا گیا محبت کر کر کے
ہاتھوں کی لکیروں سے الجھا رہا
اَخیر ہار گیا لڑ لڑ کے
تیکا خاڑ اُگا اُس بیج پہ
جسکو پالا اشک بھر بھر کے
سانس کی ہوامیں اُڑنے لگے
ارمان راکھ ہوئے سڑ سڑ کے
کچھ نہ لگا دلچسپ اُکتایا رہا
اوراکِ حیات پڑھ پڑھ کے
زمین میں سویا تو پہنچا عرش
جیتے جی دیکھا بارہا چڑھ چڑھ کے
تُو ہے بیمارِ عشق تو کیا
مسلے ہیں یہ تو گھر گھر کے
نہالؔ موت کو جیتا میں نے
بارہا زندگی سے ہر ہر کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






