محبت تو ستم کی جان من جاگیر ہوتی ہے
Poet: Roshani By: Roshani, U.A.Eپلک جھپکنے کی دیر ہوتی ہے
بچھڑنے میں کہاں تاخیر ہوتی ہے
اک پل میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں
جن کے ہاتھوں دل کی ڈوڑ ہوتی ہے
جانے کس مٹی سے خدا نے بنایا ہے دل
ٹوٹ کر بھی محبت کی بھرمار ہوتی ہے
نا شکوہ نا ہی شکایت لاتے ہیں لب پر
پھر بھی کانٹوں کی برسات ہوتی ہے
لاکھ بار منہ پھیر کر کھڑے ہو جاو تم
نظر پھر بھی تیری طلب گار رہتی ہے
محبت نام لو تو دل کو تسکین ہوتی ہے
خالی ہاتھ دیکھو تو ارمانوں کی راکھ ہوتی ہے
ہاں بچھڑنے میں کہاں تاخیر ہوتی ہے
محبت تو ستم کی جان من جاگیر ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






