محبت جب تک زندہ ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمحبت جب تک زندہ ہے ستارے جگمگائیں گے
محبت جب تک زندہ ہے نظارے مسکرائیں گے
فضائیں مہکتی رہیں گی بلبلیں چہکتی رہیں گی
گَلںں کی ڈالی ڈالی پر بھنورے جھومے گائیں گے
محبت جب تک زندہ ہے۔۔۔۔۔!
خزائیں آتی جاتی ہیں بہاریں پھر سے آئیں گی
نازک تتلیاں گلشن کا سماں رنگیں بنائیں گی
ہوا کے جھونکے خوشبو سے چمن مہکاتے جائیں گے
چمن کے گوشے گوشے میں خوشبو پھیلاتے جائیں گے
محبت جب تک زندہ ہپے۔۔۔۔۔!
گَل و بلبل کے افسانے شمع پروانوں کے قصے
شاعر شعر و نغموں میں یہ ہی دہراتے جائیں گے
قیس و فرہاد رانجھے اور کبھی لیلیٰ شیریں یا ہیر
ان ہی کرداروں سے اکثر دیوان سجاتے جائیں گے
محبت جب تک زندہ ہے۔۔۔۔۔!
محبت جب تک زندہ ہے ستارے جگمگائیں گے
محبت جب تک زندہ ہے نظارے مسکرائیں گے
محبت جب تک زندہ ہے۔۔۔۔۔!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






