محبت جس کی ذیادہ غم بھی اُسی کے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, gujranwalaمحبت جس کی ذیادہ غم بھی اُسی کے،
یہی اُصول ہیں کم بخت زندگی کے،
کرو پیار کسی سے بھی دل ہی دل میں
راز بتانا نہ کسی کو بھی عاشقی کے،
پہلے جدائی پھر تنہائی اور پھر موت
حاصلِ محبت یہی ہے بس دل لگی کے،
مر گئے آج ترے فراق میں یم بھی
شکر ہیں ارمان پُورے ہو ئے سبھی کے،
گلے لگایا اُسے بڑے مان بڑے چاہو سے
دم ہی ڈبا دیئے اُس نے ہم ہی کے،
غیروں کے سنگ ہنستے رہے وہ مدِ نظر
نہ کچھ کر سکے حالات یہ ہیں بے بسی کے،
کر دیا بدنام شہر والوں نے ہمیں
اگرچہ چرچے تھے کبھی ہماری سادگی کے،
تجھے بھُلانے کی کوششوں میں سنگدل
ہم انداز بھُول گئے اپنی زندگی کے،
مجھے کون اپنائے گا ترے جانے کے بعد
کون کرئے گا پورے حصے تیری کمی کے،
محبت میں ناکامیاں جب ملے گی تجھے
سیکھ جائو گے خود ہی ہنر شاعری کے،
ملے فرصت تو کسی دن آ جانا نہال
گِنے گے بیٹھ کے درد و غم عاشقی کے،
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






