محبت خواب ھے شاید
Poet: Qasim Baba By: Qasim Baba, Slough, Londonمحبت خواب ھے شاید
گل نایاب ھے شاید
کرے رسوا زمانے میں
کوئی زہراب ھے شاید
محبت میں بدن نائو
لہو چناب ھے شاید
جہاں پر تھا وہی پر ہوں
کوئی گرداب ھے شاید
پیے جو بھی بیک جائے
شراب ناب ھے شاید
جسے پڑھ کر ھیں آنکھیں نم
وہ تیرا باب ھے شاید
کسی کے پاس جانے کو
یہ دل بیتاب ھے شاید
ڈھلی شب آئے گا ملنے
ابھی مہتاب ھے شاید
میری آنکھوں میں رہتا ھے
وہ صورت آب ھے شاید
دل نخچیر میں قاسم
غم احباب ھے شاید
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






