محبت دُکھ تو دیتی ہے

Poet: کنول نوید By: kanwal naveed, karachi

محبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے

سکھاتی ہے وہ سب بھی
جو کتابوں میں نہیں ملتا
دیتی ہے وہ سُکھ بھی
جو خوابوں میں نہیں ملتا
عطا کرتی ہے وجد کا سمندر
جس کی طغیانی میں
ڈوب کر اُبھرتی ہیں
عشق حقیقی کی موجیں
زندہ ہوتی ہیں جس سے
انسان کی جستجو کی کھوجیں

محبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے

دُکھی دل ہی شدت سے
رب کو پکارتا ہے
ہستی کو سنوراتا ہے
کھوجتا ہے وہ راہیں
زندگی کی سزاہیں
جن سے محدود ہوتی ہیں
اس کی مقصود ہوتی ہیں

محبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے

کہ عاشق جان پاتے ہیں
وہ چھپی ہوئی باتیں
جن سے انجان رہتے ہیں
بڑے بڑے عالم جہاں کے
وہ پہنچ پاتے ہیں رب پاس
بنا سازو سامان کے
نہ کھونے کا کوئی غم
نہ پانے کی لالچ
محبت ہی سکھاتی ہے
یوں وجود مہکاتی ہے

محبت دُکھ تو دیتی ہے

مگر یہ بھی۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔

Rate it:
Views: 1413
28 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL