محبت دُکھ تو دیتی ہے
Poet: کنول نوید By: kanwal naveed, karachiمحبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
سکھاتی ہے وہ سب بھی
جو کتابوں میں نہیں ملتا
دیتی ہے وہ سُکھ بھی
جو خوابوں میں نہیں ملتا
عطا کرتی ہے وجد کا سمندر
جس کی طغیانی میں
ڈوب کر اُبھرتی ہیں
عشق حقیقی کی موجیں
زندہ ہوتی ہیں جس سے
انسان کی جستجو کی کھوجیں
محبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
دُکھی دل ہی شدت سے
رب کو پکارتا ہے
ہستی کو سنوراتا ہے
کھوجتا ہے وہ راہیں
زندگی کی سزاہیں
جن سے محدود ہوتی ہیں
اس کی مقصود ہوتی ہیں
محبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کہ عاشق جان پاتے ہیں
وہ چھپی ہوئی باتیں
جن سے انجان رہتے ہیں
بڑے بڑے عالم جہاں کے
وہ پہنچ پاتے ہیں رب پاس
بنا سازو سامان کے
نہ کھونے کا کوئی غم
نہ پانے کی لالچ
محبت ہی سکھاتی ہے
یوں وجود مہکاتی ہے
محبت دُکھ تو دیتی ہے
مگر یہ بھی۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






