محبت زندگانی ھے
Poet: sadia saher By: sadia saher, germanyمحبت میں
دوستی کے رشتوں میں
یہ لڑنا جھگڑنا
دوریاں بڑھاتے ھیں
یہ پل دوری کے
سوئ محبت جگاتے ھیں
تجدید محبت کے پل سے
محبت مسکراتی ھے
فضا گنگناتی ھے
بن کے کہکشاں
ھماری زندگی کو جگمگاتی ھے
محبت مٹتی نہیں
دل میں بستی ھے
گردش ایام میں
مدھم ھو بھی جائے تو
محبت مرتی نہیں
مر کر بھی زندہ رھتی ھے
محبت لافانی ھے
یہ ھے کائنات پہ محیط
محبت ھر پل میں
محبت ھے خوشی
یہ زندگی ھے
محبت بندگی ھے
محبت کی بس دو لفظوں کی کہانی ھے
محبت زندگانی ھے
محبت لافانی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






