محبت سے الجھ کر
Poet: چوہدری پرویز افضل Ch Pervaiz Afzal By: Ch Pervaiz Afzal, Jhelum Sohawa/Dubai UAEعجیب شخص تھا وہ محبت سے الجھ کر
نت نئے طریقوں سے خود کو سلجھا رہا تھا
میری آنکھوں کے سامنے میرے چمن میں
وہ شخص میرا ہی ظرف آزما رہا تھا
اپنی ہی محفل میں بیگانہ سا لگا مجھے
وہ اپنی تنہائی کو مجھے سے چھپا رہا تھا
بات بات پے وہ مخا طب کرتا محفل کو
بن سنوار کے وہ مجھے دیکھا رہا تھا
میرے سوا محفل میں تھے سبھی اسکے
ا شا روں کناروں سے وہ مجھے سمجھا رہا تھا
دیما لہجہ جکی نظریں لڑکھڑاتی آواز
لبوں کی ہنسی کے پیچھےخود کو چھپا رہا تھا
یوں تو کٹ رہی ہے دونو ں کی زندگی پرویز
آج مجھے لگا وہ بچھڑ کر پچھتا رہا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







