محبت ماورائے کفر و دیں ہے
Poet: طالب دہلوی By: Dua, Karachiمحبت ماورائے کفر و دیں ہے
محبت کا کوئی مذہب نہیں ہے
محبت حسن ہے حسن آفریں ہے
محبت حسن سے بڑھ کر حسیں ہے
بدل اس کا زمانہ میں نہیں ہے
بڑی دولت مرا حسن یقیں ہے
تصور میں وہ زلف عنبریں ہے
نظر میں اب نہ دنیا ہے نہ دیں ہے
مجھے اس قول پر اپنے یقیں ہے
نہ ہو جس سے خیانت وہ امیں ہے
بظاہر خاک کا پتلا ہے سب کچھ
جو دیکھو غور سے کچھ بھی نہیں ہے
محبت جس کو کہتا ہے زمانہ
یہی وہ زہر ہے جو آبگیں ہے
سنبھلنا اے دل ناداں سنبھلنا
بڑی قاتل نگاہ اولیں ہے
مکافات عمل ہے بزم ہستی
یہیں دوزخ یہیں خلد بریں ہے
حقیقت حسن کی کچھ ہے تو اتنی
جو چڑھ جائے نظر میں وہ حسیں ہے
محبت کا نہیں ہے کوئی خالق
محبت خود محبت آفریں ہے
بھروسہ کیا کرے کوئی کسی پر
جو اپنا ہے وہی اپنا نہیں ہے
کہا جاتا ہے یہ طالبؔ سے اکثر
سخن تیرا نہایت دل نشیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






