محبت، میں اور فصل بدگمانی
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryمڑ مڑ کر دیکھا
تھم تھم کر چلے
مگر کٹھور لوگ نہ پھر بھی پگھلے
لگادیا ہے اب قفل ان دروازوں پر پکا
جن پر دستک نہیں ہوئی کبھی بھی غلطی سے روا
تھی ایسی اندھی میری محبت
سینچ رہی تھی میں بصد شوق جنھیں گل جان کر
وہ تھی اصل میں فصل خار خار
لوگ کہتے ہیں بڑی ہی اعداپرور نکلی مونا
حریفوں کو ہی حلیف سمجھتی رہی میں نادان؟
سنا ہے شہر بھر میں قصے مشہور ہیں میری جفاگیری کے
کیا کہوں میری کج فہمیاں تھیں یا ان کی بدگمانیاں
ملے محبتوں کے صلے کچھ اس طرح سے مجھے
جیسے قرض اترتا ہے قسط در قسط کسی بنیے کی دکان کا
ہے مونا اب دل ناشاد کچھ ایسا
کہ جی کرتا ہے ڈھونڈ لوں ویرانے میں پناہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






