محبت میں سارے ہی سہانے خواب لگتے ہیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiمحبت میں سارے ہی سہانے خواب لگتے ہیں
جو زمانے بیت جاتے ہیں وہ زمانے خواب لگتے
الفت میں بے چینی ہی عمر بھر دل میں رہتی ہے
مقدر کے ستارے بھی بیگانے خواب لگتے ہیں
یہ بڑی دلکش بڑی حسین روشن آنکھیں کرتے ہیں
جب منزل پاس آتی ہے تو ڈراؤنے خواب لگتے ہیں
کبھی اونچی ہواؤں میں اڑانے خواب لگتے ہیں
مگر دل ٹوٹ جائے تو افسانے خواب لگتے ہیں
الفت میں سبھی وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے
تبھی تو جانے چہرے بھی انجانے خواب لگتے ہیں
کبھی دل کا سکون اورآنکھوں کی یہ ٹھنڈک ہوتے ہیں
مگر رفتہ رفتہ نیند اڑانے خواب لگتے ہیں
نہ جانے کونسی تعبیر زبان کھلنے نہیں دیتی
لبوں پہ تالے ہوتے ہیں جب سنانے خواب لگتے ہیں
اشتیاق تم نے عمر ساری ہے ماضی میں نبھا ڈالی
تبھی تم کو بہت اچھے پرانے خواب لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






