محبت میں شکایت ہے
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesمحبت میں شکایت ہے شکایت میں محبت ہے
نہیں جو رنگ لاتی یہ ایسی عبادت ہے
بڑی دلکش اداؤں سے ہمیں برباد کرتے ہیں
اسی معصوم عادت میں بڑی اعلی سیاست ہے
حکومت گو محبت کی دل کے جہاں پر ہے
ہزاروں آرزوؤں کی مگر پھر بھی بغاوت ہے
غموں کی دھوپ میں کملا گئیں گل پوش یادیں بھی
ملا داغِ خزاں ہم کو بہاروں کی شرارت ہے
تغافل جان کر ان کا سمجھ آگیا ہم کو
متاعِ غم لٹاتے ہیں یہی اُن کی سخاوت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






