محبت میں چوٹ کھائےہوئے لوگ ہیں ہم
Poet: allama iqbal By: Mubashar, khurrianwalaمحبت میں چوٹ کھائےہوئے لوگ ہیں ہم
زمانے بھر کے ستائےہوئےلوگ ہیں ہم
جہاں سچ کی ہار اورجھوٹ کی جیت ہوتی ہے
ظلم کےخلاف ہتھیاراٹھائےہوئے لوگ ہیں ہم
جس کاجی چاہےاپنی سوچ ہم پہ مسلط کرتا ہے
ایسےمعاشرے کوٹھکرائے ہوئے لوگ ہیں ہم
حق ہےالله اپنا رسول اپنا دین اپنا ایمان اپنا
انہی باتوں پہ اترائے ہوئے لوگ ہیں ہم
رسموں کو دین بنانےوالوں کا کیاانجام ہو گا
اس باتوں سےگھبرائےہوئے لوگ ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






