محبت نڈھال کر دے گی
Poet: Irfan Sahil By: Irfan Sahil, Gujranwalaیہ روز و شب کی مسافت نڈھال کر دے گی
دلوں میں بسنے کی عادت نڈھال کر دے گی
ہاں پہلے پہل ہواؤں میں لے اُڑے گی یہی
پھر ایک روز محبت نڈھال کر دے گی
بجا کہ قرب کی گھڑیاں ہیں دلفریب مگر
بچھڑ کے جانے کی ساعت نڈھال کر دے گی
وہ مہرباں جو تمہیں اپنی جان بولتا ہے
اسی کی نظر حقارت نڈھال کر دے گی
خیال و خواب کی دنیا سے ایک پل کے لیے
نکل کے دیکھو حقیقت نڈھال کر دے گی
علم اُٹھایا ہے یہ جانتے ہوئے ساحل
کہ مار دے گی بغاوت نڈھال کر دے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






