محبت نہیں رہی

Poet: By: Sajid naveed, Lahore

وہ سلسلے وہ شوق وہ نسبت نہیں رہی
اب زندگی میں ہجر کی وہشت نیں رہی

ٹوٹا ہے جب سے اس کی مسیحائی کا طلسم
دل کو کسی مسیحا کی حاجت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا
پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ ہو گیا مصروف وہ بہت
اور ہمیں یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی

اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں
خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی

Rate it:
Views: 3008
24 Mar, 2008
More Sad Poetry