محبت چھوڑ دی ھم نے
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreبرسوں بعد زندگی کی بساط پر
وہ شخص ميرے روبرو کھڑا تھا
بہت اندر دل کدے سے اک آواز گونجی
لو
ديكھو!
ميں نے كہا تھا نہ
وہ لوٹ آئے گ
وہ لوٹ آئے گ
آج زيست كے اس موڑ پر
جب گيسوؤں ميں چاندی اتر چكی ھے
آنكھوں كے كٹوروں ميں روشنی مدھم ھو چكی ھے
دل كے كواڑ پر قفل لگ چكے ھيں
وہ لوٹ آيا ھے
وہ لوٹ آيا ھے
وہ اک شخص جو جاتے ھوئے
سب ناتے توڑ كر گيا تھ
سب چاہتيں چھوڑ كر گيا تھ
بہت مان سے يہ بول كر گيا تھ
تجھ سے دنيا ميں بہت پڑے ھيں
ميں ايسا ہمسفر ڈھونڈوں گ
جس كے قدموں كی خاک تو ھو گ
آج اتنے برسوں بعد
ايسا كيا ھوا كہ
وہ شخص!
ميرے سامنے اک شكستہ ٹوٹی ديوار كی مانند كھڑا ھے
جيسے اسے كوئی سہارا نہ ملنے پر
ابھی كے ابھی زميں بوس ھو جائے گ
وہ خوبصورت آنكھيں
جنہيں ديكھ كے ميں جيتی تھی
صديوں سے وہ آنكھيں
جيسے كبھی سوئی نہ ھوں
بہت سے درد سہے ھوں
كسی ہجر ميں تڑپی ھوں
ميں سمجھ چكی ھوں
ميری طرح كوئی برباد
اس كو بھی كر گيا ھے
اس نے سالوں بعد
صرف اتنا پوچھ
تم كيسی ھو
آنكھوں ميں كچھ پڑ گيا ھے
يہ كہہ كر ھم رو پڑے
وفا پر ھم آج بھی قائم ھيں
ليكن!
محبت چھوڑ دی ھم نے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






