محبت کا اُفق مہکا رہا ہے
Poet: Rasheed Amin By: Rasheed Amin, Islamabadمحبت کا اُفق مہکا رہا ہے
تکلف کا مگر رشتہ رہا ہے
خدا جانے خزاں کب تک رہے گی
قفس ویران ہوتا جا رہا ہے
غرض بیل میں دیکھا پنپنا
مگر ایثار اب مرجھا رہا ہے
مرے لہجے کی شبنم کے اثر سے
کڑکتی دھوپ میں سایہ رہا ہے
جو کہنا تھا نہیں کہتا میں اُن سے
مری آنکھوں میں جھانکا جا رہا ہے
بصارت کو بصیرت کہنے والا
کھلی آنکھوں سے دھوکا کھا رہا ہے
امین آنکھیں مری حیرت زدہ ہیں
مرا ہر خواب کیوں دھندلا رہا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






