محبت کا رستہ دکھایا کسی نے
Poet: Mehr Khan Muhammad Harnota Sar Khush Bharwana By: Khalid Roomi, Rawalpindi محبت کا رستہ دکھایا کسی نے
مجھے غم کی سولی چڑھایا کسی نے
بنایا ہے دنیا سے بیگانہ مجھ کو
تڑپنا پھڑکنا سکھایا کسی نے
نہ ذوق تمنا، نہ تاب جدائی
مجھے ایسا بے خود بنایا کسی نے
نظر جم گئی ایک نقطہ پہ آ کر
جو چلمن سے جلوہ دکھایا کسی نے
مجھے سوز غم دے کے آنکھیں چرا لیں
مرا شوق دل آزمایا کسی نے
جھٹک کر ذرا روئے تاباں پہ زلفیں
عجب روز و شب کو ملایا کسی نے
تعامل، تغافل سے اور بے رخی سے
مری آرزو کو بڑھایا کسی نے
مجھے اپنے دیدار کی پیاس دے کر
نقاب اپنے رخ پر گرایا کسی نے
گلستاں میں تھا جب شباب بہاراں
مرا آشیانہ جلایا کسی نے
خدا کے سواکون فریاد رس ہے ؟
مجھے اس قدر ہے ستایا کسی نے
یہ سر خوش جو پھولا نہیں ہے سماتا
سر بزم شاید بلایا کسی نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






