محبت کب سمجھتی ہے۔۔؟
Poet: By: Rania Ch, Lahoreمحبت کب سمجھتی ہے
کہ کوئی توڑ ڈالے گا
محبت کب سمجھتی ہے
کہ کوئی دشتِ وحشت ہے
جو خوابوں میں بسی
آنکھوں کو جانے کب کہاں
جھنجھوڑ ڈالے گا
محبت کب سمجھتی ہے
کہ جو شفاف رستے ہیں
درِ منزل پہ رکتے ہیں
تھکن تحفہ نہیں دیں گے
کہیں بھٹکا نہیں دیں گے
محبت کب سمجھتی ہے
کوئی دکھ درد کی جانب
اسے نہ موڑ ڈالے گا
محبت کب سمجھتی ہے
کہ اگر کوئی توڑ ڈالے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






