محبت کم نہیں ہوتی، تم بھی میرے نہیں ہوتے
Poet: سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد، پنجاب، پاکستان.محبت کم نہیں ہوتی تم بھی میرے نہیں ہوتے
یہ کیسے زخم ہیں جو کبھی بھرے نہیں ہوتے
احساس ء جدائی پہ تم بھی پگھل جاتے
چاہت مجھ سے ہوتی تو جذبے ٹھرے نہیں ہوتے
اک قیامت اٹھ جاتی حق جو غریب کا مرت
احساس بیدار جو ہوتے لوگ بہرے نہیں ہوتے
تم میرے ہوتے تو میرا ساتھ بھی دیتے
جو ساتھ دیتے تم ہم ہارے نہیں ہوتے
تم جیسے اگر ممکن حوصلے ہوتے ہمارے بھی
تم ہمارے نہیں ہوتے ہم تمہارے نہیں ہوتے
اکثر روح پہ لگتے ہیں جو گھاؤ اپنے دیتے ہیں
جو غیر دے جائیں وہ درد گہرے نہیں ہوتے
فرض محبت کے ادا تم بھی کچھ کرتے
ہمارے دامن میں سنو! اتنے خسارے نہیں ہوتے
قائل ضوابط کی محبت بھی کہیں ہوتی
محبت رسواء نہیں ہوتی بے وفا پیارے نہیں ہوتے
طوفان ء دوراں میں عنبر میں کہاں ہوتی؟
اسکی ذات کے مجھے گر سہارے نہیں ہوتے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






