محبت کم نہیں ہوتی، تم بھی میرے نہیں ہوتے

Poet: سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد، پنجاب، پاکستان.

محبت کم نہیں ہوتی تم بھی میرے نہیں ہوتے
یہ کیسے زخم ہیں جو کبھی بھرے نہیں ہوتے

احساس ء جدائی پہ تم بھی پگھل جاتے
چاہت مجھ سے ہوتی تو جذبے ٹھرے نہیں ہوتے

اک قیامت اٹھ جاتی حق جو غریب کا مرت
احساس بیدار جو ہوتے لوگ بہرے نہیں ہوتے

تم میرے ہوتے تو میرا ساتھ بھی دیتے
جو ساتھ دیتے تم ہم ہارے نہیں ہوتے

تم جیسے اگر ممکن حوصلے ہوتے ہمارے بھی
تم ہمارے نہیں ہوتے ہم تمہارے نہیں ہوتے

اکثر روح پہ لگتے ہیں جو گھاؤ اپنے دیتے ہیں
جو غیر دے جائیں وہ درد گہرے نہیں ہوتے

فرض محبت کے ادا تم بھی کچھ کرتے
ہمارے دامن میں سنو! اتنے خسارے نہیں ہوتے

قائل ضوابط کی محبت بھی کہیں ہوتی
محبت رسواء نہیں ہوتی بے وفا پیارے نہیں ہوتے

طوفان ء دوراں میں عنبر میں کہاں ہوتی؟
اسکی ذات کے مجھے گر سہارے نہیں ہوتے
 

Rate it:
Views: 904
09 Jan, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL