محبت کو بھُلانا جانتا ہوں
Poet: زبیر اُداس By: Zubair, Sialkotمحبت کو بھُلانا جانتا ہوں
میں خود پہ مسکرانا جانتا ہوں
مری عادت نہیں دل توڑنے کی
مگر دل ٹوٹ جانا جانتا ہوں
مجھے یوں آزما کے ہنسنے والے
تجھے میں آزمانا جانتا ہوں
کئی شکوے تمہارے نام کے ہیں
انہیں اپنا بنانا جانتا ہوں
وفا سے بس جفاملتی رہی ہے
میں برسوں سے زمانہ جانتا ہوں
مدد کرنا بُری عادت نہیں ہے
مگر خود کو اُٹھانا جانتا ہوں
مجھے دل دے کے کیوں گھبرا رہے ہو؟
میں وعدے کو نبھانا جانتا ہوں
ہزاروں عیب ہیں مجھ میں بھی یارو
میں اپنا بھی فسانہ جانتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






