محبت کی آگ میں جلنا بھی تو لازم تھا

Poet: Muhammad Tanveer Baig By: Muhammad Tanveer Baig, Islamabad

محبت کی آگ میں جلنا بھی تو لازم تھا
وفا بھی تو لازم تھی بدلنا بھی تو لازم تھا

ملنے کی تمنا میں جو وہ محفل میں آئے تو
بہکنا بھی تو لازم تھا مچلنا بھی تو لازم تھا

تعجب سے بھری آنکھیں مجھے یوں دیکھتی اکژ
پھر آنسوئوں کے ریلے کا نکلنا بھی تو لازم تھا

نظر ملتے ھی اکژ وہ چرا لیتا نگاہوں کو
تڑپنا بھی تو لازم تھا تکنا بھی تو لازم تھا

رستے ہھی رہے لاعلم اتنے چپ چاپ سے تھے ھم
ٹہرنا بھی تو لازم تھا بچھڑنا بھی تو لازم تھا

نہیں ممکن کہ راہ عشق میں ہی کھو جاتا تنویر
دل توڑنا بھی تو لازم تھا دل ٹوٹنا بھی تو لازم تھا
 

Rate it:
Views: 1749
22 Oct, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL