محبت کی بلندی کو نہ بوچھ
Poet: Rubina Biswas By: rubina biswas, kARACHI آسمان سے رمین بے آگئ
ھاں تم بولو
میں سن رھی ھوں
بہت خوصورت ے نہ یہ خوشگوار فضاں
میں اسکی آوار کا شدائی ھوں
دل میں رقص کنعاں
اسکی خوشبو ے
بے بناہ محبت ملی
مہک رھا ے
بیار کو بیار ھی سمجے گا
یہ کیا وادی ے کیا یہ چاند نگر ے
گھنے درختوں میں
رلف سی حسین راتیں
میرے گھر تک ائ شکر ے زندگی
اسکا بیار ے
ابھی بھی بہار ے
سارے کہکشاں روشنی ھی روشنی
جگمگا رھی ے کلی کلی گلی گلی
دل کی اتنی سخی ے وہ
مہکتے ھوے بھولوں کی طرح
چودویں کا چاند ھو
خوب گزرے گی زندگی
محبت کی بلندی کو نہ بوچھ
روشی بہت ھے واہ
ان انکھوں میں سویرا جاگ اٹھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






