محبت کی حرارت
Poet: Ahsan Changezi By: Ahsan Changezi, karachiمحبت کی حرارت ہو رہی ہے
میرے دل میں شرارت ہو رہی ہے
تیرے قدموں کی آہٹ سے لگے یوں
کہ تو مجھ میں سرایت ہو رہی ہے
نہ کیوں پہلے سمجھ پایا محبت
مجھے خود سے شکایت ہو رہی ہے
سمجھ نہ پائے جو جذبات سچے
مجھے ان سے حقارت ہو رہی ہے
دلوں کے حوصلوں سے آج اونچی
محبت کی عمارت ہو رہی ہے
عشق کی طے ہوئی وفا قیمت
عجب دیکھو تجارت ہو رہی ہے
بے انخاب تیرے نام احسن
محبت کی وزارت ہو رہی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







