محبت کی سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadمیری دعا ابھی سفر آہ میں ہے
تیرے ملن کا وہ منظر میری نگاہ میں ہے
تو میرا مجازی خدا نہیں اس کے باوجود تجھے چاہ ہے
یہ اظہار بھی شامل میرے گناہ میں ہے
جب محبت ملی ہے تو جانتی ہوں جدائی بھی ملے گی
میں ابھی اس وجہ سے خاموش ہوں میرا دل تیری پناہ میں ہے
میرے دل کے مکان میں اک تیری ہی مہمان نوازی ہے
کب سے میرا دل تیری مکیں کی چاہ میں ہے
یہ ہی وہ دن تھے جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا
محبت کی سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






