محبت کی کی تھی خطا یاد ہے
Poet: Faheem Ur Rehman Faheem By: Faheem Ur Rehman, surjani town karachiکس جرم کی پائی ہے سزا یاد ہے
محبت کی کی تھی خطا یاد ہے
کسی دن ملو تو بتائیں تمھیں
کیا بھول گئے اور کیا یاد ہے
تم کسی اور کو اپنا لو مگر
مجھے اپنا عہد وفا یاد ہے
تم ہوئے تھے خفا کس کس بات پر
اور منایا تھا کتنی دفعہ یاد ہے
آئنے میں بھی چہرہ تمھارا دکھے
اب نہ چہرہ کوئی دوسرا یاد ہے
جہاں ملی تھی نظر تم سے پہلی دفعہ
وہ شہر وہ گلی وہ جگہ یاد ہے
گو کہ بچھڑے ہوئے اک زمانہ ہوا
مگر آپ کی ہر ادا یاد ہے
جھیل سی تیری آنکھیں تصور میں ہیں
اور زلفوں کی کالی گھٹا یاد ہے
مجھے یاد ہیں اپنی باتیں سبھی
تم بتائو تمہیں کچھ بھلا یاد ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






