محبت کے خیالوں کی خوشی معلوم ہوتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامحبت کے خیالوں کی خوشی معلوم ہوتی ہے
جنوں کے رنگ میں بھی دل لگی معلوم ہوتی ہے
ترا در چھوڑ دیتی ہوں، مگر اتنی دعا کرنا
مرا احساس ہے یہ سادگی معلوم ہوتی ہے
میں چاہوں بھی کبھی تو اس جہاں کی ہو نہیں سکتی
فقط اتنا کہو گی بے بسی معلوم ہوتی ہے
مجھے رغبت ذرا سی بھی نہیں ہے، مے سے، ساقی سے
پیوں اک جام غم یا بے خودی معلوم ہوتی ہے
وہ سایہ اٹھ گیا ہے اپنے سر سے دھوپ نگری میں
کہ ساری زندگی ہی بے کسی معلوم ہوتی ہے
کچھ ایسی رنج و غم کی داستاں معلوم ہوتی ہے
حیاتِ مختصر بھی بندگی معلوم ہوتی ہے
یقیناً ترک کردوں گی میں یوں آشفتہ سر پھرنا
مگر یہ تب ہی وشمہ عاشقی معلوم ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






