محبتوں میں بندھے قَول ٹوٹ جانے سے
Poet: عین رحمٰن By: عین رحمٰن, ایبٹ آبادمحبتوں میں بندھے قَول ٹوٹ جانے سے
یقیں پلٹتا نہیں ، جا کے لَوٹ آنے سے
ھنسی تِری تو ، باعث تھی فصلِ گل کی مگر
خزاں بھی دور نہیں ، نین بھیگ جانےسے
کبھی تو ایسا بھی تھا جانِ انجمن گویا
گمان تیرا ہوا ہم کو بہار آنے سے
امید بندھ گئی تِرے آشفتہ سر کی جلووں سے
اور آس ٹوٹ گئی ، تیرے بام پر نہ آنے سے
ضیائے شوق کسی طَور کم ہوئی نہ کبھی
لَو اور دینے لگی ، تیرے بے رخی دکھانے سے
کسے خبر تھی کہ ہم چھوڑے جاتے ہیں دنیا
شہر میں عام ہوئی ، تیرے بام و در سجانے سے
ترا دیوانہ بھی ، ناحق تھا باعثِ شورش
فضا بحال ہوئی اسے بزم سے اٹھانے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






