محبتوں کی کہانیاں

Poet: Abdul WAheed By: Abdul Waheed(Muskan), Haripur

محبتوں کی کہانیاں عام ہیں جہاں میں
مگر ہماری یہ داستاں سب سے منفرد ہے
نہ حسن حیرت فروذ تیرا
نہ عشق حسرت فروذ میرا
ہم عام سے لوگ ہیں مگر، جاناں
ہماری چاہت عظیم تر ہے
ہمارے دامن میں وصل کم ہے فراق زیادہ
ہماری آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب زیادہ
بہت ہی کٹھن راستوں سے ہو کر
ہم اپنی پلکوں سے خار چُن کر
اک ایسی منزل کی سمت
محوِِ سفر ہیں اب تک
جہاں گلابوں کے کنج ہوں گے
جہاں ہوا عطر بیز ہو گی
جہاںفضا نغمہ ریز ہو گی
جہاں پہ سکھ کی حسین پریاں
ہتھیلیوں پہ حناء سجائے
دمکتے ہاتھوں میں پھول تھامے
گلاب ہونٹوں پہ چاہتوں کے
حسین نغموں کی دُھن بسائے
ہمارے آنے کی منتطر ہیں
مجھے خبر ہے اے جانِ جاناں
ابھی یہ منزل ہماری آنکھوں سے دور تر ہے
مگر چلو خواب دیکھنے میں حرج کیا ہے

Rate it:
Views: 392
05 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL