محبتوں کی کہانیاں
Poet: Abdul WAheed By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurمحبتوں کی کہانیاں عام ہیں جہاں میں
مگر ہماری یہ داستاں سب سے منفرد ہے
نہ حسن حیرت فروذ تیرا
نہ عشق حسرت فروذ میرا
ہم عام سے لوگ ہیں مگر، جاناں
ہماری چاہت عظیم تر ہے
ہمارے دامن میں وصل کم ہے فراق زیادہ
ہماری آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب زیادہ
بہت ہی کٹھن راستوں سے ہو کر
ہم اپنی پلکوں سے خار چُن کر
اک ایسی منزل کی سمت
محوِِ سفر ہیں اب تک
جہاں گلابوں کے کنج ہوں گے
جہاں ہوا عطر بیز ہو گی
جہاںفضا نغمہ ریز ہو گی
جہاں پہ سکھ کی حسین پریاں
ہتھیلیوں پہ حناء سجائے
دمکتے ہاتھوں میں پھول تھامے
گلاب ہونٹوں پہ چاہتوں کے
حسین نغموں کی دُھن بسائے
ہمارے آنے کی منتطر ہیں
مجھے خبر ہے اے جانِ جاناں
ابھی یہ منزل ہماری آنکھوں سے دور تر ہے
مگر چلو خواب دیکھنے میں حرج کیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






