محبتیں
Poet: Asif shaaki By: Asif Shaaki, Hyderabadکسی کی کسی کے بغیر زندگی بسر نہیں ہوتی
معلوم ہوتا ہے یہ سب کو مگر خبر نہیں ہوتی
نہ محبت جابر ہے ، نہ کرتی ہے یہ مجبور کسی
احساس ہوتی ہے، جذبہ ہوتی ہے جبر نہیں ہوتی
جو بسا لیویں ہیں اک چاند سے شبیہ کو ذہن میں
تو بد نظری نہیں ہوتی، نظریں دربدر نہیں ہوتی
جن محبتیں کو مل جاوے ہے منزل اگر چه
جدا ہو ہی جاتی ہیں وہ اکثر ہمسفر نہیں ہوتی
وہ کہتا ہے مجھ سے کہ تم باتیں طویل کرتے ہو
میرا کہنا ہے شاکی کہ محبتیں مختصر نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






