محبتیں سنمبھال رکھوں چا ھتیں بحال رکھوں
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobar KSAمحبتیں سنمبھال رکھوں
چاھتیں بحال رکھوں
خوابوں میں تجھے دیکھوں
آنکھوں کو بے حال رکھوں
پھولوں کی بارش کروں
روشنیوں کی خواھش کروں
نظر میں تجھے سماؤں
چہرے پے جمال رکھوں
تیتلیوں سے رنگ لے لوں
کلیوں کو سنگ لے لوں
بہاروں سے دوستی کر لوں
موسموں کا کمال رکھوں
مٹھی میں جگنؤ بھر لوں
چاندنی کو سنگ کر لوں
جلا کے آنگن میں دئیے
اندھیروں پر زوال رکھوں
ساحلوں کو رازداں کر کے
سمندر کو بے کراں کر کے
موجوں کی انگڑائیوں میں
خود کو بے مثال رکھوں
محبتیں سنمبھال رکھوں
چاھتیں بحال رکھوں ۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






