محسن بھوپالی کے نام
Poet: نعمان صدیقی By: Noman Siddiqui, Karachiخواب نگر میں رستہ کر کے دیکھوں گا
ہنگامہ سا برپا کر کے دیکھوں گا
کون ہے میرا اپنوں کے اس میلے میں
اب کے خود کو رُسوا کر کے دیکھوں گا
میری کیا اوقات رہے گی شہر میں اب
خود کو تجھ سے منہا کر کے دیکھوں گا
تجھ کو بھولوں یا میں تجھ کو یاد کروں
خود سے خود کا جھگڑا کر کے دیکھوں گا
خواب، امید، رنج و غم ، اُلجھن،راحت
عشق سے دل کا سودا کر کے دیکھوں گا
وفا کے بدلے لوگ دَغا کیوں دیتے ہیں!
میں نعمان بھی ایسا کر کے دیکھوں گاچ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






