محّبت
Poet: By: Rania Ch, Lahoreمحّبت ٹھہر جاتی ہے
ہم اكثر يه سمجھتے ہیں
جسے ہم پیار کرتے ہیں
اُسے هم بُهول بیٹھے ہیں
مگر ایسا نہیں ہوت
محّبت دائمی سچ ہے
محبت ٹھہر جاتی ہے
ہماری بات کے اندر
محبت بیٹھ جاتی ہے
ہماری ذات کے اندر
مگر یہ کم نہیں ہوتی
کسی بھی دکھ کی صورت میں
کبھی کوئی ضرورت میں
کبھی انجان سے غم میں
کبھی لہجے کی ٹھنڈک میں
اُداسى كى ضرورت میں
کبھی بارش کی صورت میں
ہماری آنکھ کے اندر
کبھی آبِ رواں بن کر
کبھی قطرے کی صورت میں
بظاھر ایسا لگتا ہے
جسے ہم پیار کرتے ہیں
اسے ہم بھول بیٹھے ہیں
مگر ایسا نہیں ہوت
یہ ہر گز کم نہیں ہوتی
محبت بیٹھ جاتی ہے
ہماری بات کے اندر
ہماری ذات کے اندر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






