مختلف شعراء ۔ حصہ سوم و آخر
Poet: By: Bakhtiar Nasir, Lahoreرات کے دشمن آنکھ میں آ کر
نیند کی ناؤ ڈبو جاتے ہیں
( شاہدہ حسن)
زندگی ڈوب گئی غم کے جو طوفانوں میں
میرے سینے میں سمندر بھی اتر جاتا ہے
( منظور قادر پروانہ)
سائبان تجھ کو بناؤں تو بدن اور جلے
تری پرچھائیں میں سورج کی تمازت دیکھوں
( جازب قریشی)
شاید اسی باعث وہ فروزاں ہے ابھی تک
سورج نے کبھی رات کی ظلمت نہیں دیکھی
( شہزاد احمد)
پڑا خون جگر ہمیں پینا
عمر بھر کا عذاب ہے جینا
( اختر صدیقی)
ہمارا اس سے تعلق تو کچھ نہیں تھا مگر
ہم اپنے دل کو یونہی بےقرارکر بیٹھے
( اختر امان)
کسی جگہ نہ ملی چھاؤں مامتا جیسی
اگرچہ راہ میں لاکھوں شجر دکھائی دئیے
(اقبال ارشد)
ابھی تک متظر کوئ دریچے میں تمہارا ہے
مرے کانوں میں کہتی ہے ہوا آہستہ آہستہ
( افضل علوی)
ہم نے ناز اٹھائے جن کے
جانے اب وہ ہو گئے کن کے
( واقف قادری)
اڑتے اڑتے آس کا پنچھی دور افق میں ڈوب گیا
روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی
( قتیل شفائی یا ناصر کاظی)
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






