مدام تیرے ، ہم ایسے زیرِ دام رہے
Poet: عین رحمٰن By: عین رحمٰن, ایبٹ آبادمدام تیرے ، ہم ایسے زیرِ دام رہے
بنا کرم، کسی الطاف ، تیرے نام رہے
ہوائیں یوں بھی کسی کا بھرم نہیں رکھتیں
دئیے جلیں گے وہی جن کا فیض عام رہے
ہم ایسے خستہ تنوں کا بھرم رہے قائم
بحال میکدہ ، پیاسا اگر نہ جام رہے
یہ معجزہ تری قربت کا ، کج کلاہوں نے
جہاں پہ راج کیا اور ترے غلام رہے
عنایت اُن کی بیاں کیا کریں یہی سمجھو
کہ یاریاں تھیں سمندر سے اور تشنہ کام رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






