مدت سے کوئی شور بپا ہو نہیں رہا

Poet: کاشف حسین غائر By: Hassan, Lahore

مدت سے کوئی شور بپا ہو نہیں رہا
اور ہاتھ ہے کہ دل سے جدا ہو نہیں رہا

اک صبح تھی جو شام میں تبدیل ہو گئی
اک رنگ ہے جو رنگ حنا ہو نہیں رہا

ہم بھی وہی دیا بھی وہی رات بھی وہی
کیا بات ہے جو رقص ہوا ہو نہیں رہا

ہم بھی کسی خیال کے سناہٹوں میں گم
تم سے بھی پاس عہد وفا ہو نہیں رہا

کیا چاہتی ہے ہم سے ہماری یہ زندگی
کیا قرض ہے جو ہم سے ادا ہو نہیں رہا

Rate it:
Views: 446
20 Aug, 2021
More Sad Poetry