مدت سے ہونٹوں پہ کوئی صدا نہیں رکھتے

Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد

مدت سے ہونٹوں پہ کوئی صدا نہیں رکھتے
مگر ایسا نہیں کوئی ہم دعا نہیں رکھتے

تم کیا سمجھو گے تمہیں معلوم ہی کیا ہے
مریض ء عشق کہیں بھی کوئی دوا نہیں رکھتے

لوگ اس لیئے بھی شاید تنہا چھوڑ جاتے ہیں
تعلق کسی سے عقل والے بے وجہ نہیں رکھتے

سنگ تنقید کے اوروں پر لوگ یوں برساتے ہیں
جیسے کہ خود میں کوئی خطا نہیں رکھتے

مانا کہ سفر بہت دشوار ٹھہرے ہیں
مگر یہ بھی نہیں کوئی راہ نہیں رکھتے

محبت کے دعوؤں کا جو پرچار کرتے ہیں
اکثر سنو وہی وفا نہیں رکھتے

اوقاتِ بے بسی بھی کیا خوب ہوتی ہے
طلب انتہا کی اور کاسا نہیں رکھتے

یہ بھی محبت کا اک دستور ہے عنبر
محبت جن سے رکھتے ہیں ان سے انا نہیں رکھتے

Rate it:
Views: 467
27 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL