مدت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: ندیم مراد By: ندیم مراد, umtata RSAمُدت ہوئی ہے آنکھ میں آنسو بھرے ہوئے
مُدت ہوئی ہے کُھل کے ذرا سا ہنسے ہوئے
مُدت ہوئی ہے کوئی محبّت کئے ہوئے
مُدت ہوئی ہے کوئی تماشا بَنے ہوئے
مُدت ہوئی ہے لُطف خوشی کا لئے ہوئے
مُدت ہوئی ہے بے سرو ساماں ہوئے ہوئے
مُدت سے جیتے ہیں تری یادوں کو اُوڑھ کر
مُدت ہوئی ہے غیر پہ نظریں کئے ہوئے
ہر رات ایسے کٹتی ہے مُدت ہوئی ندیم
بوسے تصورات میں تیرے لیے ہوئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






