مدت ہوئی ہوا نہ آئی کوئے یار سے

Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, rawalpindi

مدت ہوئی ہوا نہ آئی کوئے یار سے
خوشبو روٹھ گئی ہے چمن سے بہار سے

آج ان کا نہ آنا اک حشر سا ہو گیا ہے
آنکھیں الگ ہیں بے تاب دل بے قرار سے

مانا کہ اب ہمارا ٹھکانہ نہیں کوئی
یہ حالت ہو گئی ہے صرف ستم یار سے

شب تو کٹ چلی ہے امید سحر کے ساتھ
زندگی بھی گزر جائے گی خیال یار سے

لحد میری کیوں نہ بن جائے فردوس کی مثال
وہ بے وفا کہہ کر گزریں میرے مزار سے

آج گرد میں خوشبو ہے سارے جہان کی
لگتا ہے ہوا چھو آئی ہے دیار یار سے

دنیا سے تو کہیں بہتر تھا تیرا غم
اکتا گیا ہوں میں غم روز گار سے

Rate it:
Views: 497
02 May, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL