مدت ہوئی ہوا نہ آئی کوئے یار سے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, rawalpindiمدت ہوئی ہوا نہ آئی کوئے یار سے
خوشبو روٹھ گئی ہے چمن سے بہار سے
آج ان کا نہ آنا اک حشر سا ہو گیا ہے
آنکھیں الگ ہیں بے تاب دل بے قرار سے
مانا کہ اب ہمارا ٹھکانہ نہیں کوئی
یہ حالت ہو گئی ہے صرف ستم یار سے
شب تو کٹ چلی ہے امید سحر کے ساتھ
زندگی بھی گزر جائے گی خیال یار سے
لحد میری کیوں نہ بن جائے فردوس کی مثال
وہ بے وفا کہہ کر گزریں میرے مزار سے
آج گرد میں خوشبو ہے سارے جہان کی
لگتا ہے ہوا چھو آئی ہے دیار یار سے
دنیا سے تو کہیں بہتر تھا تیرا غم
اکتا گیا ہوں میں غم روز گار سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






