مدتوں بعد ہوا ہے غریب آج مجھے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaمدتوں بعد ہوا ہے غریب آج مجھے
لے گیا کوچہ ء دلبر میں نصیب آج مجھے
مجھ کو تھا وہم اسے پیار ہے مجھ سے
وہ جو حیران ہوا دیکھ قریب آج مجھے
اسکے کاجل کی جو تعریف مرے دل نے کی
دل بھی محسوس ہوا پھر یہ رقیب آج مجھے
پھر نا جانوں کہ مری سوچ میں کیا کیا آیا
اپنی ہر سوچ بھی لاگے ہے عجیب آج مجھے
پھر سے اک بار سنو مثلِ مسیح ّ چڑھنا پڑا
شوخی و حسنِ تعاون کی صلیب آج مجھے
جو دوا زخمِ جگر بھرنے کو دیتا ہے یہاں
ڈھونڈ کے لادو کہیں سے وہ طبیب آج مجھے
جس نے خاموش سے انساں کو بنایا شاعر
جعفری یاد وہ آتا ہے ادیب آج مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






