مدتوں سے حل نہ ہوا مسئلہ کشمیر کا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

مدتوں سے حل نہ ہوا مسئلہ کشمیر کا
دوستو کتنا بڑا ہے المیہ کشمیر کا

ظلم کرتے تھک گۓ ہیں ظالم و جابر کئی
جو نہ مانا ہار وہ ہے حوصلہ کشمیر کا

اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں رکتے نہیں
جب بھی لکھنا چاہا میں نے مرثیہ کشمیر کا

جانے کب آۓ گی منزل کا پتہ کچھ بھی نہیں
مدتوں سے چل رہا ہے قافلہ کشمیر کا

کب تلک کشمیریوں کا خون چوسیں گے چرند
ہاۓ کوئی تو کرے اب فیصلہ کشمیر کا

کوئی تو کرنے جہاد آؤ کہے کشمیر روز
پاک سے تو دو قدم ہے فاصلہ کشمیر کا

ہر طرف خوں ریزیاں ہیں ہر طرف آہ بقا
پاک کیوں دینے لگا ہے آئنہ کشمیر کا

جن کو کاروبار کے چھن جانے کا ہو ڈر بھلا
حکمراں کیسے وہ چھیڑیں تذکرہ کشمیر کا

جب کہیں ظلم و ستم کی داستاں لکھی گئی
خون سے لکھنا ہے باقرؔ مرتبہ کشمیر کا

Rate it:
Views: 598
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL