مدتوں سے حل نہ ہوا مسئلہ کشمیر کا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمدتوں سے حل نہ ہوا مسئلہ کشمیر کا
دوستو کتنا بڑا ہے المیہ کشمیر کا
ظلم کرتے تھک گۓ ہیں ظالم و جابر کئی
جو نہ مانا ہار وہ ہے حوصلہ کشمیر کا
اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں رکتے نہیں
جب بھی لکھنا چاہا میں نے مرثیہ کشمیر کا
جانے کب آۓ گی منزل کا پتہ کچھ بھی نہیں
مدتوں سے چل رہا ہے قافلہ کشمیر کا
کب تلک کشمیریوں کا خون چوسیں گے چرند
ہاۓ کوئی تو کرے اب فیصلہ کشمیر کا
کوئی تو کرنے جہاد آؤ کہے کشمیر روز
پاک سے تو دو قدم ہے فاصلہ کشمیر کا
ہر طرف خوں ریزیاں ہیں ہر طرف آہ بقا
پاک کیوں دینے لگا ہے آئنہ کشمیر کا
جن کو کاروبار کے چھن جانے کا ہو ڈر بھلا
حکمراں کیسے وہ چھیڑیں تذکرہ کشمیر کا
جب کہیں ظلم و ستم کی داستاں لکھی گئی
خون سے لکھنا ہے باقرؔ مرتبہ کشمیر کا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






