جو بھی دکھ درد ملا تیرے بعد

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

جو بھی دکھ درد ملا تیرے بعد
میں نے چپ چاپ سہا تیرے بعد

محفلیں جیسی جہاں پر بھی ملیں
ذکر بس تیرا رہا تیرے بعد

چارسو درد الم آئیں نظر
کتنی غمگیں ہے فضا تیرے بعد

تو وفادار جو تھا غم بھی ترا
عمر بھر ساتھ رہا تیرے بعد

حال مجنوں سا ہوا میرا بھی
میں کبھی رو نہ سکا تیرے بعد

مجھ کو اپنی بھی خبر کوئی نہیں
شکوے لوگوں کے بجا تیرے بعد

میں کِسے آج سناؤں غمِ دل
کون سنتا ہے صدا تیرے بعد

پھول کانٹوں سے جدا کر دینا
مشغلہ ہے یہ مرا تیرے بعد

تجھ پہ باقرؔ یوں وفا ختم ہوئی
مل سکی پھر نہ وفا تیرے بعد
 

Rate it:
Views: 568
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL