مدح نامہ
Poet: Md.shakir adil taimi By: Md.shakir adil taimi, Indiaتو شمع ہے پروانے کی
میں تیری لو میں جلا کروں گا
تو خواب ہے دیوانے کا
میں تجھے پلکوں پہ سجایا کروں گا
تو گھٹاہے ساون کی
میںتیری بارش میں نہایا کروں گا
تیری پیشانی چودہویں کاچمکتاچاند
تیری پلکیں دھوپ میں درختوں کی گھنی چھاؤں
تیرے گیسوساون کی کالی گھٹا
تیری آنکھیں سمندر ہو کوزے میں بسا
تیرے ہونٹ چٹکتاہو اگلاب
تیری گردن پیمانہ بھرتا ظرف
تیری چال ہرنی کی چوکری
تیری خوشبو باد نسیم کا لطیف جھونکا
تیری آواز بلندی سے گرتا آبشار
تیرا غصہ جوالا مکھی سے اگلتا شعلہ
تیری نرمی کینڈل کا پگھلتا موم
تیری یادیں کہ جانے کانام ہی نہیں لیتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






