مر ہی جائیں گے صنم تیرے فراق میں جل کے

Poet: JAFAR BASHIR JAFAR By: JAFAR BASHIR JAFAR, Al Khobar, Saudi Arabia

مر ہی جائیں گے صنم تیرے فراق میں جل کے
ڈھونڈیں گے سُکوں اب ہم خرابات میں چل کے

وہ نہیں آئے گا گھر میرے ، مُجھ کو تو یقیں تھا
پھر بھی تکتے رہے رستہ ہم ، اور گھر سے نکل کے

صُبح سے شام ہوئی ہے انتظار میں جس کے
چل دیا دیکھتے ہی مُجھ کو ، وہ رستہ بدل کے

کاش کہ ایسا دوبارہ ہو ، دوبارہ ہو کبھی
جیسے وہ آج گِرے ہیں مُجھ پہ ہی پِھسل کے

اور تری چھاپ نہ اُتری ہے نہ اُترے گی کبھی
ہر طرح دیکھ لیا ہم نے سب رنگوں میں ڈھل کے

سبدِ گُل لے کے کھڑے تھے ہم راہ میں جس کی
کُوچے سے وہ گُزرا ہے ، مرے دِل کو مَسل کے

دلِ ناداں اب تڑپنا ہی مقدر ہے ترا
کہاں جائے گا تُو جعفرؔ کے سینے سے نکل کے

Rate it:
Views: 518
30 Mar, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL