مرا اک خواب ہے جاناں
Poet: . By: Shakila, Khanewalوفا کی آخری حد کو
ہم تم
کیوں نہ سر کر لیں
جفاؤں کو وفائیں دیں
وفاؤں کو ثمر کر لیں
تمہیں مجھ سے
مجھے تجھ سے
نہ راعی بھر شکایت ہو
مثالوں میں نہ مل پاۓ
ہمیں ایسی محبت ہو
مری آنکھیں ترے غم میں
کچھ ایسے درد سے برسیں
کہ خود ساون بھی کہہ اٹھے
یہ آنسو ہیں یا جھرنے ہیں ؟
بڑی سوغات دی ہم کو
یہ کس نے مات دی ہمکو
مرے دکھ میں
ترے دل سے
کچھ ایسے آہ نکل جاۓ
کہ پتھر بھی پگھل جاۓ
مرا اک خواب ہے جاناں
وفا کا تذکرہ جب ہو
ہمارا نام بھی آۓ
دلائل دینے والے سب
ہمیں ہی محترم جانیں
کچھ ایسے وقف چاہت میں
یہ اپنی ذات ہو جاۓ
ہمارانام آنے پر
جفا کو مات ہو جاۓ
مرا اک خواب ہے جاناں
مرا اک خواب ہے جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






