مرتے مرتے بھی میں ترے استعمال میں آؤں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaتری سوچ میں آؤں ترے خیال میں آؤں
تُو خدا سے کرے اُس سوال میں آؤں
لمحوں میں آؤں میں اُوقات میں آؤں
تری زندگی کے تمام ماہ و سال میں آؤں
دعائیں کرتا ہوں میں التجاح کرتا ہوں
مرتے مرتے بھی میں ترے استعمال میں آؤں
نااُمیدی میں آس بن کے لہراؤں
تسلی دل بن کے ترے ملال میں آؤں
تُو قید کر کے رکھ لے مجھے نگاؤں میں
خود تری چشم و زلفِ جال میں آؤں
میرا ذکر آئے ترے نام کے ساتھ ساتھ
میں تری محبتوں کے اعمال میں آؤں
کومل ورکوں پے نام میرا آئے نہال
میں شعر و غزل میں کلامِ نہال میں آؤں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






