مرتے کو ملتا ہوجیسے جینے کا سہارا کوئی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآسمان سے ٹوٹتا
ہو جیسے ستارا کوئی
میں ترسا ہوں تیری محبت کو ایسے
ساحل کے پاس رہ کر پیاسا کنارہ کوئی
تیری یاد کی لہریں مجھے
ہر روز چھو کر گزرتی ہے ایسے
جیسے ڈوبتی کشتی میں بیٹھا
اندھا بوڑھا مسافر کوئی
چاندی راتوں میں میرے آنسو بہتے ہیں ایسے
جیسے اندھرے میں ٹمٹمتا ہو ستارہ کوئی
میں طرف جاوں ، میں طرح تجھے پکاروں
کہ میری سوچوں ، میری باتوں پے لگ گیا ہو تالا کوئی
تیری منہ سے نکالے وہ پیار کے لفظ تھے یا
مرتے کو ملتا ہوجیسے جینے کا سہارا کوئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






